Services

Untitled Document
Untitled Document

مانیٹرنگ کمیٹی‘آپریشن رکوانے کا حربہ ناکام!

E-mail Print PDF

مانیٹرنگ کمیٹی‘آپریشن رکوانے کا حربہ ناکام!

اسرا ر بخاری

نمرود تین سو بیس سال کی طویل مدت خدائی دعوے کے ساتھ کامیابی سے حکومت کرتا رہا مگر آخری اسّی سال اسکی دائمی ذلت، بربادی کا عنوان بن گئے، تاریخ کی گواہی ہے تین سو بیس سال وہ سچا عادل حکمران رہا نہ خود ظلم کرتا نہ اس کی قلمرو میں کسی دوسرے کو ظلم کرنے کی جرأت تھی اسکی یہ خوبی رب رئوف و عظیم کو اتنی پسند آئی کہ ایک طویل مدت اس کا خدائی دعویٰ درخوراعتنا ہی نہ سمجھا گیا لیکن جب وہ آمادۂ ظلم ہوا اور قطبیوںکے بچوں کے قتل کا حکم جاری کردیا تو پھر پکڑ میں آگیا ۔حضرت علیؓ کا یہ قول کہ ’’کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی‘‘ اسی حقیقت کی تفسیر ہے۔ ظلم کئی بھیانک روپ رکھتا ہے حق تلفی ، کسی کو اس کی چیز سے جبراً یا دھوکے سے محروم کردینا۔

یہ دنیا بھی دارالجزاء ہے یہاں بھی جو کیا جائے اس کا بدلہ ملتا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ میں شامل سب لوگ نہ دہشت گرد ہیں، نہ قاتل نہ بھتہ خور اور بلا خوف تردید یہ بہت بھاری اکثریت میں ہیں سنگین جرائم میں ملوث عناصر چند سو سے زیادہ نہیں اور لیڈروں میں سے توا نگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ غلط کام کوئی انسان طمع کا شکار ہوکر‘خوف کے جال میں پھنس کر یا جذباتی گمراہی میں مبتلا ہوکر بھی کرتا ہے متحدہ میں ایسے افراد کی شناخت چنداں مشکل نہیں ہے ان سطور میں یہ بات کی گئی تھی کہ متحدہ کے قائد الطاف حسین جو کراچی میں فوج بلانے، آپریشن کرنے کے نعرے لگا رہے ہیں شاید اس کی بنیاد یہ یقین ہے کہ شہری علاقوں میںآپریشن فوج کیلئے آسان نہیں ہوگا اور قبل ازیں تین آپریشن متحدہ کا بال بیکا نہیں کرسکے چوتھا اس سے کیا مختلف ہوگا اور اس طرح مخصوص انداز کا ’’کاروبار گلشن‘‘ چلتا رہے گا، ‘‘سوال پیدا ہوتا ہے آپریشن میں تو دہشت گرد، بھتہ خور، کرپٹ اور لینڈ مافیا کے لوگ گرفت میں آرہے ہیں اسکے نتیجے میں کراچی کے عام شہری طویل مدت بعد سکھ کا سانس لے رہے ہیں اس عمل پر تو کراچی کی نمائندگی اور کراچی کے لوگوں کی سچی ہمدردی و خیر خواہی کی دعویدار متحدہ کو تو خوش ہونا چاہئے لیکن اس کا الٹا برہم ہونا اس عمل کو رکوانے کے حربے اختیار کرنا کس چھپی حقیقت کی نشاندہی ہے اسمبلیوں سے استعفے اور واپسی کیلئے 19 شرائط کا جائزہ لیا جائے تو یہ متذکرہ عمل کو بے عمل کرنے کی تدبیروں اور چالاکیوں کے سوا کیا ہے وزیراعظم کی جانب سے ان شرائط کو مسترد کئے جانے اور متحدہ کیلئے اسمبلیوں میں غیر مشروط واپسی کا راستہ کھلا رکھنے کے فیصلے نے دبائو اور بلیک میلنگ کی راہ مسدود کردی ہے۔

متحدہ کی جانب سے کراچی آپریشن کی نگرانی کیلئے مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کا مطالبہ دامِ ہمرنگ زمین ہے مقتدر اداروں کی عقابی نگاہوں اور سیاسی فہم و فراست نے اسکے نتائج کو بھانپ لیا بادی النظر میں اس آپریشن کو انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا تاثر دینے والا قدم ہے لیکن درحقیقت اگر مانیٹرنگ کمیٹی کا مطالبہ تسلیم کرلیا جائے تو یہ حکومت اور فوج کی جانب سے جاری آپریشن پر عدم اعتماد اور اس حوالے سے متحدہ کے الزامات درست تسلیم کرنا ہے اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے وزیراعظم کے سیاسی امور کے انچارج اسحاق ڈار کی جانب سے متحدہ کے رہنمائوں کو انکے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی سے عوامی سطح پر حکومت کا وزن متحدہ کے پلڑے میں جانے کے تاثرات و خدشات نے جنم لیا تھا مگر وزیراعظم نوازشریف کی سیاسی بالغ نظری اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مشاورت نے اس معاملے میں حکومت اور فوج کو پھر ایک صفحے پر لاکھڑا کیا ہے۔

ویسے کیا یہ مذاق نہیں ہوگا کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کی صدارت میں ایپکس کمیٹی ایک فیصلہ کرے اور تین ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل مانیٹرنگ کمیٹی اس فیصلے کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرے۔ دہشت گردی، بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری، کسی مقام یا ادارے پر چھاپے کی منظوری مانیٹرنگ کمیٹی سے لی جائے اور اگر انصاف اسی کا نام ہے تو پھر تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بھی انصاف ہونا چاہئے ان کے قابل اعتماد افراد یا پارلیمنٹرین پر مشتمل مانیٹرنگ کمیٹی بننی چاہئے جو ان علاقوں میں آپریشن کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرے۔

وزیراعظم کے لفٹ نہ کرانے پر متحدہ کے قائد کا برہم ہونا لازمی ہے کہ مانیٹرنگ کمیٹی کے ذریعہ آپریشن کو بے اثر کرنے کی حکمت عملی ناکام ہوگئی ہے جبکہ متحدہ کے قائدین دوہرے آزار کا شکار نظر آتے ہیں۔

جمعہ کے روز کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرہ میں فاروق ستار نے اپنے خطاب میں عدلیہ پر مکمل عدم اعتماد اور اس سے بڑھ کر سول نافرمانی کی تحریک کی دھمکی دے دی رابطہ کمیٹی نے ’’متحدہ کے ارکان کو مستعفی سمجھا جائے‘‘ کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی اس چھپی خواہش کو بھی بے نقاب کردیا جس سے مسلسل انکار کیا جارہا تھاکہ اب ساری توجہ مہاجر صوبے پر دی جائیگی اگرچہ متحدہ کے لیڈرجانتے ہیں کہ کراچی اور حیدرآباد میں آباد لوگ جنہیں اردو زبان کی وجہ سے متحدہ مہاجر کہتی ہے ان میں سے 70 فیصد سے زائد متحدہ سے اتفاق نہیں رکھتے ان میں شہریوں کی خاموش اکثریت کے ساتھ جماعت اسلامی، تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان، سنی تحریک، پیپلزپارٹی، اے این پی، مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہونے کی بنا پر متحدہ کی سوچ اور پروگرام کے شدید مخالف ہیں۔ مہاجر صوبہ کی تحریک اور سول نافرمانی کی تحریک کی دھمکی دراصل دبائو اور بلیک میلنگ کی ایک اور کوشش ہے۔ کراچی سے ایک محرم راز نے فون پر بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے کراچی آپریشن جاری رکھنے کے اعلان سے زیادہ سانحہ بلدیہ ٹائون کے مجرموں کو بے نقاب کرنے کے اعلان نے متحدہ کو زیادہ پریشان کردیا ہے کیونکہ مبینہ طور پر اس کا کھُرا متحدہ کی سمت جانے کی باتیں زبان زدِ خاص و عام ہیں گیارہ ارکان کے استعفوں پر جعلی دستخطوں کی باتیں استعفوں پر عدم اتفاق کو ظاہر کررہی ہیں تو دوسری جانب متحدہ کے جہاز سے چھلانگیں لگانے کا باقاعدہ آغاز استعفوں کے باوجود نسرین جلیل اور تنویرالحق کی جانب سے چیئرمین سینٹ کو چھٹی کی درخواستوں کی صورت ہوچکا ہے۔

 
You are here: Home Editorial مانیٹرنگ کمیٹی‘آپریشن رکوانے کا حربہ ناکام!