Services

Untitled Document
Untitled Document

’’کچھ ایسے بھی لوگ اٹھ جائینگے اس بزم سے‘‘

E-mail Print PDF

’’کچھ ایسے بھی لوگ اٹھ جائینگے اس بزم سے‘‘

نعیم قاسم

جنرل کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا ہے، پاکستان میرا رومانس ہے، یہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا کیونکہ یہ ملک اللہ تعالیٰ کا ایک معجزہ ہے میں اس ملک کے نظریاتی تشخص اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے خون کا آخری قطرہ بہا دونگا۔ وہ یہ باتیں ہمیشہ مرشد نسیم انور بیگ مرحوم و مغفور کی میز پر کیا کرتے تھے، وہ میرے پیر بھائی تھے کیونکہ میرے مرشد نسیم انور بیگ انہیں ’’عظمتوں والا جنرل کہتے تھے‘‘ وہ مجید مرحوم حمید گل مرحوم سے خاص لگائو رکھتے تھے اور انہیں ’’مدینہ والا‘‘ قرار دیتے تھے۔ اسلام اور پاکستان حمید گل کا عشق اور جزو ایمان تھا۔ وہ ہمیشہ ہر محاذ پر فتح مندی کے جذبے سے سرشار ہو کر تہہ تیغ اور سربکف رہتے تھے اور ممولے کو شہباز سے لڑانے کے فلسفے کو دل و دماغ سے تسلیم کرتے تھے، ایسا وہ کیوں نہ کرتے۔ انہوں نے سوویت یونین کے ریچھ کو زخمی کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے سوویت یونین کی افغانستان سے آگے پیش قدمی رُک گئی۔ انکے معترض جنہیں کمیونزم کے فلسفے سے ہمیشہ بڑا عشق رہا، وہ ہمیشہ سے سمجھتے تھے کہ مزدوروں کی سرخ آرمی روس اور چین سے مارچ کرتی ہوئی پاکستان آئیگی اور طبقاتی کشمکش کا خاتمہ ہو جائیگا اور تمام کامریڈز مذہبی، سماجی اور معاشی بندھنوں سے آزاد ہو کر خوشحال زندگی گزاریں گے مگر امریکہ مغربی ممالک، خلیجی ممالک کے تعاون سے پاکستان 1980ء میں کمیونزم کا راستہ روکنے کیلئے افغانستان میں مجاہدین کی پراکسی وار کے ذریعے فرنٹ لائن سٹیٹ بن گیا۔ ہمارے لئے اس وقت یہ ناگزیر تھا کیونکہ سوویت یونین ہمیشہ سے ہندوستان کا حلیف رہا تھا اور پاکستان کو اپنا دفاع بہتر بنانے کیلئے امریکہ سے فوجی امداد صرف اسی صورت میں مل سکتی تھی کہ وہ افغانستان میں روسی فوجوں کیخلاف بالواسطہ جنگ کو سپورٹ کرے۔ اس وقت سوائے ایئرمارشل اصغر خان کے ہر قابل ذکر دانشور اور سیاست دان نے پاکستان کی فوج کے جہادی فلسفے کو درست قرار دیا اور اس کا ہمیں سب سے بڑا جو فائدہ ہوا وہ یہ کہ ہم نے افغان جنگ کی آڑ میں انتہائی رازداری سے اپنا ایٹمی پروگرام پایہ تکمیل تک پہنچا لیا۔

جنرل حمید گل ایک بہادر اور آرزو مند شخص تھے وہ سماجی روابط نہ صرف قائم کرتے تھے بلکہ تعلق نبھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے وہ میرے ہاں اکثر تشریف لاتے تھے اور میری ہر تقریب خصوصاََ جو مجید نظامی مرحوم و مغفور کے اعزاز میں منعقد کی جاتی تھی وہ ضرور ان میں شریک ہوتے تھے۔ وہ مجید نظامی صاحب کو پاکستان کیلئے اللہ کا خاص احسان قرار دیتے تھے۔ انہوں نے دو مرتبہ نسیم انور بیگ کی برسی کا اہتمام کیا مگر تیسری برسی کے بعد عبداللہ گل نے روتے ہوئے میرے کندھے لگ کر کہا ’’پروفیسر صاحب، جنرل صاحب بھی انکل نسیم کے پاس چلے گئے ہیں‘‘ جنرل صاحب میں عجز و انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ بچوں اور نوجوان سے بڑی شفقت رکھتے تھے۔ انہوں نے عدلیہ بحالی کیلئے برپا تحریک میں پرویز مشرف کی جیل بھی کاٹی۔ اڈیالہ جیل میں انہیں شدید ذہنی اور جسمانی تکلیف دی گئی انکی ادویات بھی ان تک نہیں پہنچتی تھیں، جسٹس افتخار چودھری کو انہوں نے ہمارے دوست طلعت عباس ایڈووکیٹ کے ذریعے اہم پیغام بھیجا جس سے انکی زندگی سلامت رہی مگر وہ بعد میں جسٹس افتخار چودھری سے سخت مایوس ہوئے۔ وہ نواز شریف اور عمران خان کی شخصیت سازی اور سرپرستی کرتے رہے مگر بعد میں دونوں انہیں بادشاہ گر تسلیم کرنے کی بجائے طرٔح دے گئے۔ وہ ہمیشہ خوابوں کے سوداگر رہے۔ وہ امیر پرست پسند انسان تھے۔ وہ ہر وقت پاکستان اور اسلام کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے لئے تیار رہتے تھے۔ بقول منیر نیازی

روشنی دکھا دوں گا، ان اندھیر نگروں میں

اک ہوا ضیائوں کی چار سُو چلا دوں گا

سب غرور ان کا میں خاک میں ملا دوں گا

سب حساب ان کا میں ایک دن چکا دوں گا

جنرل صاحب سیاست کے میدان میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہتے تھے مگر وہ چالاک نہ تھے وہ مجید نظامی صاحب کے ہمراہ میاں نواز شریف کے پاس رائے ونڈ گئے اور کہا کہ جب تک نواز شریف وزیراعظم ہیں آپ کا خاندان کاروبار نہ کرے تو بقول راوی میاں شریف مرحوم نے کہا کہ اصل وقت تو کاروبار اب آیا ہے جنرل حمید گل کی شخصیت اس قدر گریس فل اور پاور فل تھی کہ کوئی بھی دوسرا سیاستدان یہ رسک ہی نہیں لے سکتا تھا کہ انہیں اپنے ساتھ شریک سیاست کرے۔ انہوں نے تو بڑے دبنگ طریقے سے جنرل آصف نواز کو استعفیٰ پیش کر دیا تھا کہ وہ ایک جنگی سپاہی ہے لہذا ٹیکسلا مکینکل کمپلیکس کی سربراہی نہیں کر سکتے ہیں یہ ان کا ظرف اور حوصلہ تھا تو آئی جے آئی بنانے کو اپنی غلطی تسلیم کرتے تھے۔ وہ بڑے جی دار اور حوصلہ مند انسان تھے۔ وہ اپنے اساتذہ کی بڑی عزت کرتے تھے جب وہ ملتان کے کور کمانڈر تھے کہ انکے کوئی پرائمری سکول کے استاد انہیں ملنے آئے انکے بیٹے نے بتایا کہ جنرل صاحب نے استاد کو اپنی کرسی پر بٹھایا اور خود نیچے ان کے قدموں میں زمین پر بیٹھ گئے، استاد کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ مسز حمید گل نے میری اہلیہ کو بتایا کہ میری بیماری اور اپریشنز کے دوران جنرل صاحب نے میرا بے حد خیال رکھا، وہ بیوی کے رشتے کے تقدس کو کس قدر اہمیت دیتے تھے اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے۔ ان کا ایک دیرینہ دوست طویل عرصے کے بعد بیرون ملک سے انہیں ملنے آیا۔ جنرل صاحب نے دوست سے اسکی اہلیہ کا حال احوال دریافت کیا تو وہ کہنے لگا کہ اسے کینسر ہوگیا تھا لہذا میں نے اسے فارغ (طلاق) کر دیا ہے۔ جنرل صاحب کا غصے سے چہرہ سرخ ہوگیا، دوست سے کہا ابھی اٹھو یہاں سے، تم آج سے میرے لئے فارغ، میں تمہارے جیسے بے حس اور خود غرض انسان سے تعلق رکھنا اپنی توہین سمجھتا ہوں۔ گزشتہ سال وہ میرے ساتھ ایک تقریب میں علامہ اقبال کی یہ رباعی پڑھ کر بار بار آبدیدہ ہو رہے تھے …؎

تو غنی ازہر دو عالم من فقیر

روز محشر عذر ہائے من پذیر

ورحسابم را تو بینی ناگزیر

از نگاہ مصطفی پنہاں بگیر

یقیناً انہیں رسول خدا کے سامنے شرمسار نہیں ہونا پڑیگا۔ دین کی سربلندی اور سرفرازی کیلئے انہوں نے اپنے تئیں بھرپور کوشش کی۔ وہ مغربی جمہوریت کے اس لئے خلاف تھے کہ انکے خیال میں یہ مسلمانوں کے اتحاد کو نفاق میں بدلتی ہے اور قوم متحد نہیں رہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام انتشار کا شکار ہے۔

میرے گھر کے سامنے ریس کورس گرائونڈ میں ان کی نماز جنازہ میں ہر طبقہ فکر کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔ جنرل راحیل شریف بھی اپنے نظریاتی قائد کو سپرد خاک کرنے کیلئے آئے ہوئے تھے۔ فضا جنرل حمید گل، جنرل راحیل شریف زندہ باد کے نعروں سے گونج رہی تھی، میں اپنے فون لسٹ پر جنرل حمید گل کا نام اور نمبر ڈیلیٹ کرنے کا حوصلہ نہیں پا رہا تھا مگر یہ حقیقت یہ ہے کہ

چھپ گیا آفتاب شام ہوئی

اِک مسافر کی راہ تمام ہوئی

 
You are here: Home Editorial ’’کچھ ایسے بھی لوگ اٹھ جائینگے اس بزم سے‘‘