Services

Untitled Document
Untitled Document

پاک بھارت مذاکرات اور ’’نریندر مودی ‘‘

E-mail Print PDF

پاک بھارت مذاکرات اور ’’نریندر مودی ‘‘

محمد اکرم چوہدری

کیا چائے بیچنے والا مودی اب پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا؟ کیا اسے نہیں علم کہ آج وہ جس منصب پر بیٹھا بڑی بڑی باتیں کر رہا ہے اسے یہ منصب کن ’کارناموں‘ کے عوض ملا ہے؟ مسلمانوں کی گردنیں کاٹ کر بھارت میں مقبولیت حاصل کرنے اور سیڑھی در سیڑھی اپنے محسنوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر ترقی کرنے والا یہ لیڈر ہمیں بتائے گا کہ مذاکرات کب، کہاں اور کس کی مرضی سے کرنے ہیں۔ اسے یہ نہیں پتہ کہ خارجہ پالیسی کا شعبہ کسی بھی ملک کے لیے کتنا حساس ہوتا ہے اور خارجہ پالیسی نہ تو بچوں کا کھیل ہے اور نہ ہی اسے بچگانہ ضدوں سے چلایا جا سکتا ہے۔ بلکہ زمینی حقائق کی روشنی میں پختہ اور سنجیدہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جب سے مودی سرکار نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ’’بغل میں چھری منہ میں رام رام‘‘ والی کہاوت لیے موصوف کبھی مذاکرات کی باتیں کرتے ہیں تو کبھی جنگ کی۔۔۔ کبھی میں نہ مانوں جیسے راگ الاپنے شروع کردیتے ہیں تو کبھی تحفے تحائف بھجواتے اور وصول کرتے ہیں۔ نہایت ہوشیاری سے وہ ہمسایوں کے پاکستان کے خلاف کان بھی بھر جاتے ہیں اور ساتھ ہی ایسا بیان دے دیتے ہیں جس سے بظاہر لگتا ہے کہ انہیں پاکستانی حکومت سے ہمدردی ہے لیکن پاکستان میں موجود کچھ عناصر اور اسٹیبلشمنٹ بھارت کے لیے خطرہ ہیں۔

پاکستان کی ہمیشہ ہی سے کوشش رہی ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ باہمی مذاکرات سے حل کرے اس کے لیے وہ ہر ممکن اقدام کرنا چاہتا ہے، گزشتہ ماہ روسی شہر اوفا میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد تعلقات میں بہتری کی امیدیں ایک بار پھر پیدا ہوئی تھیں۔ ماضی میں ایسے کئی مواقع آئے جب دونوں ہمسایوں نے اپنے رشتوں کو مضبوط کرنے کے عہد کیے لیکن یہ کبھی وفا نہیں ہو سکے۔ ان میں پہلے کشمیر کے تنازعے کی وجہ سے معاملات خراب ہونے کا تاثر ملتا تھا پھر بات دہشت گردی کے مسئلے پر آ کر رک جاتی۔

ہم ماضی میں کی جانے والی کوششوں کی تفصیل میں جانے سے پہلے نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد تعلقات میں بہتری کی کوششوں اور تلخیوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ تاکہ ہمارے حکمرانوں کی توجہ اس پر دلائی جائے کہ انہیں ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے کہ وہ کس شخصیت سے ’انصاف‘ اور شفاف مذاکرات کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔

مودی آٹھ سال کا تھا تو باپ کے چائے خانے میں اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔ جب بھی ریلوے اسٹیشن پر کوئی ریل رکتی، تو مودی چائے کی پیالیاں سنبھالتا اور ڈبوں کی سِمت دوڑ جاتا۔ کچھ عرصے بعد احمد آبادمیں اس کا ماموں بس اسٹینڈ پر کینٹین چلاتا تھا۔ مودی نے چند ماہ وہاں کام کیا۔ کچھ رقم جمع کرنے کے بعد گیتا مندر کے نزدیک سائیکل پر اپنا چائے خانہ چلانے لگا۔ وہاں پر ایک ہندو مرکز واقع تھا۔ مرکز کے کچھ پرچارک (مبلغ) مودی کے اِسٹال سے چائے پینے لگے اور اس کے دوست بن گئے۔ اپنی چالاکیوں سے وہ پرچارکوں کے دل میں گھر کر گیا اور وزیر اعلیٰ گجرات بن گیا اس کے بعد دنیا جانتی ہے کہ اس نے کس طرح مسلمانوں کا خون بہایا اور ہندوئوں کے دل میں اپنی جگہ بنائی وہ گجرات کے سنجیدہ حلقوں میں بطور سازشی اور فریبی لیڈر مشہور تھا۔

اب جبکہ حال ہی میں بھارت عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرنے کے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور مودی سرکار کی آخری حد تک کوشش ہے کہ وہ کسی بھی طرح کامیاب مذاکرات نہ ہوں بلکہ ’ٹائم پاس‘ پالیسی اپنائے۔۔۔ دنیا بھر میں کئی ایک مثالیں ہیں جن کا میں اگلے کسی کالم میں ذکر کروں گا کہ انہوں نے بڑے سے بڑے زمینی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا۔ اگر ایسا ممکن ہے تو بھارت پاکستان سے مذاکرات کیوں نہیں کرتا، کیوں ماضی میں بھی بھارت ہمیشہ مذاکرات سے بھاگتا آیا ہے؟ چونکہ اس کے مزاج اور پالیسی میں کشمیر کا ذکر ہے ہی نہیں تو وہ کیوں کر پاکستان سے اس بارے میں بات کرے گا۔

بھارت کو یہ سمجھ جانا چاہیے کہ پاکستان کی قیادت کشمیر کے بغیر کسی معاملے پر بات نہیں کرے گی۔ ہاں! اوفا ملاقات میں وزیر اعظم سے کشمیر پر بات نہ کرکے غلطی ہوئی تھی لیکن ملاقات کے تیسرے ہی دن وزیر اعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سینیٹر سرتاج عزیز نے بیان دیا تھا کہ اس ملاقات میں بھی کشمیر کے معاملے پر بات ہوئی اور بھارتی قیادت پر واضح کیا گیا کہ کشمیر پر بات کیے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔اس ملاقات کے بعد کچھ کمی تو آئی لیکن تھوڑے ہی دن بعد دوبارہ فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا جس میں جہاں عام شہری مارے گئے وہیں پاکستان کی جانب سے اپنی حدود میں بغیر پائلٹ کے بھارتی جاسوس طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

میرے نزدیک بھارتی خارجہ پالیسی میں یہ بات سرے سے ہی موجود نہیں ہے کہ پاکستان مستحکم ہو کیوں کہ چینی صدر کی آمد اور اقتصادی راہداری کے منصوبے کے بعد پاک بھارت تعلقات میں زیادہ تلخی آئی اس دورے کو پیش رفت کہا گیا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ سے کشیدہ ہوتے چلے گئے جس میں اپریل میں پاکستان نے پہلے ممبئی حملہ کیس میں گرفتار ذکی الرحمان لکھوی کو رہا کر دیا اور اس پر بھارت نے احتجاج کیا اور معاملے کو سکیورٹی کونسل میں اٹھانے کا اعلان کر دیا اور پاکستان نے مئی میں سفارتی سطح پر بھارتی اینٹیلجنس ایجنسی ’را‘ پر الزام عائد کیا کہ یہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ اسی اثناء میں رواں سال پانچ مئی کو بّری فوج کے کور کمانڈروں کے اجلاس میں پہلی بار فوج کی جانب سے کھلے عام بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ملکی معاملات میں مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں را کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارتی آرمی چیف ہو یا بھارتی حکمران، یہود ہوں یا ہنود، اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ عالم اسلام نے جنگیں ہمیشہ جذبوں سے لڑی ہیں، ہتھیاروں سے نہیں۔ بقول اقبالؒ:

’’مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘

لہٰذا ہندو بنیا کھلی جنگ کی بجائے خفیہ جنگ (دہشت گردی) کو اپنے روایتی و فطری انداز میں اپنائے ہوئے ہے۔ متعدد بار پاکستان کو توڑنے کی مکروہ آوازیں بلند ہوتے سنائی دی گئیں جس کے لئے جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے پاکستان کو پہلے بھی دو لخت کیا اور اب بھی وہ ایسی سرگرمیاں پاکستان میں جاری کیے ہوئے ہے۔ پاکستان کے اندر اگرچہ چند ایک ایسی نامعقول آوازیں یا سرگوشیاں ہیں تو بھارت کے 25 سے زائد صوبوں میں اس سے کئی گنا زیادہ خوفناک منصوبے اور مضبوط ترین علیحدگی پسند تحریکیں اپنے پورے قد اور وجود کے ساتھ تیار کھڑی ہیں جن میں سب سے مضبوط و مستحکم تحریکِ آزادیٔ کشمیر، آزاد خالصتان تحریک، نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بووا لینڈ، یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام، پرونیشنل لبریشن فرنٹ، نیشنل لبریشن فرنٹ آف تریپور، ارونا چل ڈریگن فورس، نیشنل لبریشن فرنٹ آف ناگالینڈ، نیشنل موومنٹ آف گورکھا لینڈ، مائو نواز نکسل موومنٹ، متحدہ اچھوت موومنٹ کے علاوہ کئی چھوٹی بڑی علیحدگی پسند تحریکیں موجود ہیں۔ لہٰذا بھارت اپنے پیچھے بھی ایک نگاہ ڈالے کہ وہ کس حال میں اور کہاں کھڑا ہے؟ ایٹمی پاکستان پر گندی نگاہ ڈالنے والے جان لیں کہ افواج پاکستان ترقی کی جس بلندی پر سینہ تانے کھڑی ہیں وہاں سے بھارت کا یہ شہر اس کے نشانے پر ہے۔ عیارومکار بھارت یاد رکھے کہ اس کا یہ جنگی جنون اور ملٹری ڈاکٹرائن کا خبط اسے روس سے بھی کہیں زیادہ بکھیر کر رکھ دے گا۔

 
You are here: Home Editorial پاک بھارت مذاکرات اور ’’نریندر مودی ‘‘