Services

Untitled Document
Untitled Document

نظام زر کی تباہ کاریاں

E-mail Print PDF

نظام زر کی تباہ کاریاں

پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری

شیخ سعدی فرماتے ہیں ”اے زر تو خدا نہیں ہے لیکن قاضی الحاجات ہے“ تین ”زے“ کا دنیا میں ابتدائے آفرینش سے جھگڑا ہے یہ تین ”ز“ بنیاد عناد و فساد ہیں ”زر‘ زمین اور زن“۔ لیکن میری نظر میں اصل بنیاد فساد زر ہے کیونکہ زر ہی آلہ خرید ہے اور اسی سے ہر شے خریدی جاتی ہے۔ حرص زر سے ضمیر و ایمان جیسی متاع گراں بہا بھی خریدی جاتی ہیں۔ زر دار کی نفسیات غیر انسانی ہوتی ہے وہ ہر شے کو خریدنا چاہتا ہے۔ حرص زر رشوت‘ غبن‘ بھتہ خوری‘ ملاوٹ اور دہشت گردی کو جنم دیتی ہے۔ انبیاءاور فلاسفہ نے حرص زر کی شدید مذمت کی ہے۔ اخباری خبر ہے کہ جوان بیٹے نے جائیداد کے لئے اپنے بوڑھے باپ کو قتل کر دیا لیکن بیٹیاں ایسے نہیں کرتیں بقول بشیر بدر ....

لڑکے ہیں اپنے باپ کی جاگیر کے رقیب

وہ گھر بھی کوئی گھر ہے جہاں لڑکیاں نہ ہوں

ماڈل گرل ایان علی منی لانڈرنگ کیس میں چار ماہ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید رہیں۔ رہائی ملنے پر وہ ایدھی ہوم اسلام آباد گئیں اور بچوں میں تحائف تقسیم کئے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ خدمت زر داراں کے بعد اب وہ ”خدمت غریباں“ کا ارادہ رکھتی ہیں اگر ایسا ہو جائے تو دنیا و عاقبت سنور جائے گی۔ خیرات اور سخاوت جو مصلحت اور نمائش کی ہو وہ باعث ثواب نہیں بلکہ باعث عذاب ہے۔ مظفر وارثی نے کہا تھا

وعدہ معاوضے کا نہ کرتا اگر خدا

خیرات بھی سخی سے نہ ملتی فقیر کو

قرآن مجید میں جابجا حرص زر کی مذمت کی گئی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے ”تباہی ہے اس کےلئے جس نے مال جمع کیا اور اسے گنا گنا کر رکھتا ہے“۔ سورہ ماعون میں بھی ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو دکھاوے کی نمازیں تو پڑھتے ہیں لیکن یتیموں اور محتاجوں کی نہ دادرسی کرتے ہیں نہ انکی خوردو نوش کا اہتمام کرتے ہیں۔ قرآن مجید ایک انقلابی نسخہ کیمیا ہے جو زرپرستی کی موت ہے۔

حرص و آز کی تباہ کاری کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ انکی مثال ایسے ہے جیسے چیونٹا گڑ سے چمٹ جائے لیکن اسکی جان جائے تو جائے لیکن وہ گڑ کو نہیں چھوڑتا۔ یہی حال سرمایہ داروں کا ہے جان جائے تو جائے دولت ہاتھ سے نہ جائے۔ حرص زر کی تازہ مثال پاکستان میں دیکھیئے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو خود ایک سرمایہ دار ہیں اور حکومت تاجراں ہیں۔ تاجروں کا نقصان حکومت وقت کی پالیسی نہیں لیکن زمینی حقائق اور حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ ہر شخص ٹیکس ادا کرے۔ میرے نظر میں جو شخص ٹکیس چور ہے وہ حکومت‘ عوام اور خدا کا مجرم ہے۔ سارق کی سزا قرآن میں قطع ید ہے لہذا ٹیکس چوروں کو بھی اسلامی سزا دی جائے اور انکے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں۔ ود ہولڈنگ ٹیکس کےخلاف بعض تاجروں کی ہڑتال قومی مفاد کےخلاف ہے۔ اے کاش پاکستان کے لوگ رزق حلال پر قانع ہو جائیں۔ پاکستان میں نظام زر رائج ہے۔ امریکہ اور یورپ آج اسی لئے ترقی یافتہ ہیں کہ وہاں ہر شخص دیانتداری سے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ ٹیکس چوری کی ان ممالک میں سخت سزا ہے۔ پاکستان میں تاجر اور انکم ٹیکس کا محکمہ ملی بھگت سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتا ہے۔ محکمہ مال صرف مال بنانے کا محکمہ ہے۔ ایسے میں پاکستان کے غریب اور مجبور عوام جائیں تو کہاں جائیں۔ میری حیرت کی کشتی قعر دریا میں ہچکولے کھانے لگی جب میرے کانوں نے ایک سی ایس ایس نوجوان افسر سے یہ سنا کہ ہمارے دوست تو چند سال نوکری کرکے دولت بنا کر دوسرے ممالک میں آباد ہونے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ جس ملک کی اعلیٰ سروس کے لوگوں کے یہ خیالات ہوں اس کا خدا ہی حافظ ہے۔ پاکستان میں تجارت و سیاست لازم و ملزوم ہو گئی ہے۔ دولت کمانے اور دولت بچانے کےلئے حکمرانوں کی صف میں ہونا ضروری ہے‘ برادری ازم بھی ہے۔ بقول شاکر شمیم ....

اب معیشت اپنی گروہی ہو گئی

ملک کا یہ کیسا ستیاناس ہے

یونان کا فلسفی افلاطون اور حضرت علیؓ کی رائے میں حکومت سرمایہ داروں اور تاجروں کی نہیں بلکہ اہل علم کی ہونی چاہئے۔ قرآن مجید میں خلافت آدم کا معیار قصہ ابلیس و آدم میں فضیلت علم رکھا گیا۔ قصہ طالوت و جالوت میں حضرت دا¶دؑ کو جسم و علم کی فضیلت کے سبب مسند خلافت عطا ہوئی۔ نظام زر کی جگہ جب تک نظام محنت نہ لے گا اور مساوات محمدی کا اطلاق نہ ہو گا پاکستان لٹیروں کے ہاتھوں لٹتا رہے گا۔

نظام زر عالمی تباہ کاریوں کو جنم دیتا ہے۔ فرانس‘ انگلستان اور اٹلی نے گزشتہ صدیوں میں افریقی اور ایشیائی ممالک پر جابرانہ حکومتیں قائم کیں۔ فرانس نے مراکس اور الجزائر‘ انگلستان نے عراق اور ہندوستان اور اٹلی نے لیبیا پر قبضہ کیا۔ نظام زر ایک استواری نظام ہے۔ مرزا غالب کے کلام میں انگریز حاکموں کے جبر و استبداد کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ان استعماریوں نے مفتوحہ علاقوں میں ظلم و جور کے وہ پہاڑ توڑے کہ انکے تذکرے سے ہی انسان لرز جاتا ہے۔ حال ہی میں بھارت نے یعقوب میمن کو عالمی انصاف کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے تختہ دار پر نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں لٹکا دیا اور کسی گمنام گوشے میں دفنا دیا۔ لاش کو ورثاءکے حوالے نہ کرنا غیر قانونی‘ غیر اخلاقی اور غیر انسانی فعل ہے۔ اس سے قبل اسی تہاڑ جیل میں کشمیری انقلابی رہنما مقبول بٹ‘ افضل گرو اور اجمل قصاب کو پھانسی دیکر ان کو وہیں دفنا دیا گیا گویا تہاڑ جیل کشمیریوں اور پاکستانیوں کا شہر خموشاں ہے۔ عالمی زرپرست سودی نظام کے بانی یہودیوں نے چند روز قبل ایک فلسطینی مسلمان خاندان کو زندہ نذر آتش کر دیا جس میں ایک چار سالہ بچہ جل کر کوئلہ بن گیا۔ ہنود و یہود سودی نظام کے پرچارک ہیں۔ یہ نظام زر کے نمائندے ہیں‘ حرص زر انفرادی ہو یا اجتماعی اس لعنت کا خاتمہ لازمی ہیں کیونکہ اس نظام شر میں بقول جمیل اطہر ....

کیا خبر تھی شہر میں یوں بے آبرو ہو جائیں گے

کیا خبر تھی زندگی یوں دربدر ہو جائے گی

 
You are here: Home Editorial نظام زر کی تباہ کاریاں