Services

Untitled Document
Untitled Document

بھارت کی خارجہ پالیسی اور بجرنگی بھائی ’جان‘

E-mail Print PDF

بھارت کی خارجہ پالیسی اور بجرنگی بھائی ’جان‘

پروفیسر فہمیدہ کوثر

بھارت ایک طرف تو ’بجرنگی بھائی جان‘ جیسی فلمیں بنا کر یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہتا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان یگانگت اور محبت کے عناصر کو فروغ ملے۔ دوسری طرف بھارت میں ہونے والی ہر تخریبی کارروائی کی ذمہ داری بلاثبوت پاکستان پر عائد کرکے واویلا مچا دیتا ہے۔ گورداسپور پر حملے کی مثال سب کے سامنے ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ اسکے کھوکھلے پن کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بج رنگی فلم کا اگر گہرائی سے مطالعہ کریں تو بھارت یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس یگانگت کو فروغ دینا لازمی ہے جسکے تحت دونوں ملکوں کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آ سکیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور مضبوط پاکستان بھارت کیلئے بھی فائدہ مند ہے لیکن عمل اور پھر ردّ عمل اسکی خارجہ پالیسی کا اہم عنصر ہے۔ بھارت کی اپنی ایک تاریخ ہے اور یہ تاریخ بھارت کے کردار اور اسکی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ان حالات میں کہ جب بھارت میں علیحدگی کی تحریکوں سے ملک کی سالمیت کو خطرات لاحق ہوں، پنجاب میں سکھوں کا مسئلہ، آسام، ناگا لینڈ، تریپورہ اور منی پور کے اپنے مسائل رہے ہیں۔ ملکی وحدت کشمکش کا شکار ہے۔ عوام کے حالات اچھے نہیں برہمن مسلمانوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ مسلمان لڑکیاں گھروں سے نکلتے وقت تلک لگانے پر مجبور ہیں آیا کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے کسی ہندو کی ہوس کا شکار نہ ہو جائیں۔

بقر عید پر گائے ذبح کرنے پر مسلمانوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا جاتا ہے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ ہندو مسلم فسادات کی خبریں آئے دن اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ بھارتی میڈیا پاکستان کے کسی اقتصادی منصوبے پر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے اور پھر بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔ ان حالات میں ’بج رنگی‘ جیسی فلمیں کیا اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ اس کا جواب ہم اڑسٹھ سالوں سے جانتے ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹانے کیلئے کبھی پاکستان کے حملے کا ہوا کھڑا کر دیا اور کبھی یہ تاثر دیا کہ بھارت امن چاہتا ہے لیکن پاکستان راہ میں روڑے اٹکانے سے باز نہیں آتا ہے۔ بھارت کے حکمران طبقے نے ہمیشہ وہاں کے عوام کو اپنے حربوں سے ڈرایا دھمکایا اور انکی حمایت حاصل کی۔ خصوصاً الیکشن کی مہم کے دوران تو ان کا یہ حربہ عوام نے جذبات مشتعل کرنے کیلئے ہمیشہ کارگر رہا ہے۔

اگر بھارت کی خارجہ پالیسی ’بجرنگی‘ فلم جیسی امن اور محبت کے عناصر پر مبنی ہوتی تو یقیناً آج حالات بالکل مختلف ہوتے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ البتہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں چار سال ایسے تھے کہ جب بھارت نے خود کو اپنے پڑوسیوں پر مسلط کرنے سے گریز کیا تاہم معاہدہ تاشقند کے بعد سے بھارت کی پاکستان کے ساتھ معاملات میں سنگینی آتی چلی گئی۔ 1980ءمیں جب اندرا گاندھی نے اقتدار سنبھالا تو کشمکش اور چپقلش پھر سے شروع ہو گئی۔ راجیو گاندھی کے برسر اقتدار آتے ہی یہ توقع تھی کہ حالات معمول پر آ جائینگے لیکن راجیو گاندھی نے بھی ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ لگتا تو یہ ہے کہ پاکستانی خطرہ بھارت کی اندرونی پالیسیوں کا معمار ہے اسی وجہ سے پاکستان کو کسی بھی ملک سے فائدہ مل جانے پر وہ اس قدر واویلا کرتا ہے کہ خدا کی پناہ۔ اس پر طرہ یہ کہ اگر پاکستان نے بھارت کی جارحیت کے خوف سے اور اپنے دفاع کیلئے کچھ اقدامات کیے تو بھارت نے اسے بھارت کیخلاف اقدام قرار دیا۔ یہ سلسلہ 1947ءسے شروع ہوا اور اب تک جاری و ساری ہے۔ بھارت اپنی فلموں کے ذریعے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ امن و سکون کی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ بھارت اس اصول کو خارجہ پالیسی کا حصہ نہ بنا سکا ہے۔

بھارت کے لیڈر یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں پر مضبوط پاکستان اودر دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان الفت و محبت کے قائل ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ وہ ایسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں جو کمزور اور عدم استحکام کا شکار ہو، حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت سے پاکستان آنے والے فنکار بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کے لوگ محبت کرنےوالے اور ملنسار ہیں اور اس تصور سے بالکل مختلف ہیں جوانکے بارے میں بھارت میں قائم ہے کیونکہ بھارت کی تمام تر توجہ پاکستان کی شکست و ریخت پر مبنی ہے لہٰذا وہ ہر کارروائی کر گزرتا ہے کہ جس سے پاکسان عدم استحکام کا شکار ہو جائے۔ دونوں ملکوں کے عوام کو قریب لانے کیلئے حکمرانوں کی مثبت سوچ، جارحانہ رویوں سے گریز اور ایک دوسرے کی سرحدات کا احترام لازمی حیثیت رکھتا ہے۔ صدیوں پر پھیلی منافرت کو سمیٹنے کیلئے موقف میں مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے اس کیلئے بالا دستی مسلط کرنے کی بجائے پڑوسی ممالک کو جینے کا حق دینا لازمی حیثیت رکھتا ہے اور عین ممکن ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام میں منافرت ختم ہو جائے اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہو جائے اور وہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ ایک ہندو بجرنگی کی کہانی کے مطابق ایک پاکستانی بچی کو جو بارڈر پار کر جاتی ہے۔ انسانی محبت اور انسانی جذبے سے سرشار ہو کر واپس چوری چھپے بغیر ویزے کے پاکستان واپس اسکے ماں باپ کے پاس لانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اے کاش! دونوں ممالک کو فروغ دینے میں کامیاب ہو جائیں لیکن سوال پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ بقول بھارتی وزیر خارجہ کہ بھارت جنوبی ایشیا کی ایک غالب قوت ہے اس کا مطلب بھارت کی بالا دستی ہے اس صورت میں مقدس سرزمین کے تحفظ کیلئے اپنے آپکو مضبوط بنانا ہو گا۔

 
You are here: Home Editorial بھارت کی خارجہ پالیسی اور بجرنگی بھائی ’جان‘