Services

Untitled Document
Untitled Document

کشمیر فروشی کی ایک اور واردات

E-mail Print PDF

کشمیر فروشی کی ایک اور واردات

جی این بھٹ

کل تک پی ڈی پی والے جو خود بھی نیشنل کانفرنس کے پس خوردہ ہیں۔ شیخ عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کو کشمیر فروش کہتے نہیں تھکتے تھے۔ فاروق عبداللہ اور عمرعبداللہ تک کی وطن فروشی پر شیخ خاندان اور نیشنل کانفرنس کو سرعام لعن طعن کرتے تھے۔ اب دوسری مرتبہ اقتدار پانے کے بعد اسے بچانے کے لئے خود بھی قوم فروشی اور وطن فروشی پر نہ صرف آمادہ ہیں بلکہ اس کام کو کرنے میں ذرا سی شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

یہ کشمیریوں کی بدنصیبی ہے کہ انہیں ہر دور میں ان کے وطن فروش رہنمائوں نے دھوکہ دیا، فروخت کیا۔ جس پر اقبال جیسا فرزند کشمیر بھی ’’قومے فروختند، چہ ارزاں فروختند‘‘ والا نوحہ کہے بغیر نہیں رہ پایا۔ آج تاریخ کشمیر کے اس نازک موڑ پر بھارت میں سیکولر کی نقاب اوڑھے کوئی کانگرسی حکومت نہیں کھل کر اپنے ہندوتوا کا پرچار کرنے والی انتہا پسند بی جے پی کی فاشسٹ قیادت کی حکومت جو کشمیر کی ہیئت تبدیل کرنے کے مکروہ ایجنڈے پر گامزن ہے اور انہیں اس کام کے لئے کشمیر میں پی ڈی پی والے اپنا کاندھا پیش کر چکے ہیں۔

شیخ عبداللہ نے اگر 1975 میں بھارت کی مستقل غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالا اور کشمیریوں کو بھارت کے ہاتھوں بمعہ کشمیر فروخت کرکے اپنی اور اپنے اولاد کے لئے حکمرانی کا معاوضہ حاصل کیا تو آج مفتی سعید بھی بھارت کی خوشنودی کے لئے اپنی حکومت کی بقا کے لئے کشمیر میں ہندو مہاجرین کی آبادکاری، پنڈتوں کی علیحدہ بستیوں کی تعمیر کے بعد اب ریٹائرڈ ہندو فوجیوں کی متنازعہ ریاست میں آبادکاری کے منصوبے پر خاموش بیٹھی ہے۔ کیا یہ سب کچھ ایک مرتبہ پھر کشمیر کا سودا من پسند قیمت پر کرنے کے مترادف نہیں۔ کس قدر بدنصیب ہے یہ قوم جسے مغل، پٹھان، انگریز، ڈوگر اور آج ہندوستان کے حکمرانوں کے ہاتھوں خود اس قوم کے ننگ وطن فرزند فروخت کرکے اپنی دنیا بسا رہے ہیں۔ آج ہر کشمیری کو ممبئی حملوں کے جرم میں پھانسی پانے والے اس مسلمان کے الفاظ اپنے گھروں میں لکھ کر لگانے چاہئیں کہ… ’’قائداعظم کا فیصلہ درست تھا آج مجھے اپنے ہندوستانی ہونے پر شرمندگی ہو رہی ہے۔ ہم بزدل ہندوستانی مسلمانوں سے وہ کشمیری بہادر ہیں جو اپنی آزادی کے لئے بھارت سے لڑ رہے ہیں۔‘‘

مگر ان بے خبر کشمیری سیاست دانوں کو کیا کہا جائے جنہوں نے صرف اقتدار کی خاطر اپنے وطن کو ہم وطنوں کو غیروں کے ہاتھوں فروخت کیا اور وہ بھی نہایت ارزاں فروخت کیا۔

کشمیر میں ہندو مہاجرین کی آبادکاری ہو یا ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں کی آباد کاری اس کا واضح مقصد کشمیر میں آبادی کے موجودہ حقیقی تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ کھلے لفظوں میں مسلم اکثریتی اس بھارتی مقبوضہ وادی کشمیر میں مسلمانوں کی عددی اکثریت ختم کرکے یہاں ہندوئوں کی آبادی میں اضافہ کرنا ہے۔ کشمیری پنڈتوں کی آباد کاری سے کسی کشمیری کو اختلاف نہیں وہ کشمیری ہیں یہاں واپس آ کر آباد ہونا ان کا حق ہے مگر ان کے لئے علیحدہ مخصوص خطے میں کالونیاں بنا کر انہیں وہاں آباد کرنا کشمیریوں کو منظور نہیں کیونکہ کشمیر میں اس طرح کی مذہبی یا نسلی تفریق کی کوئی روایت موجود نہیں رہی۔

آج بھی کشمیریوں کو اپنی کشمیریت پر اپنی نسلی مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی کی سوچ پر فخر ہے۔ یہاں کبھی ذات پات، مذہب، ثقافت پر باہمی جدال و قتال کی نوبت نہیں آئی اگر کبھی یہاں بادشاہوں نے ایسی کوئی کوشش کی بھی تو اسے عوام کے اتحاد نے جلد ہی مسترد کر دیا۔ مگر آج مودی سرکاری جس طرح کشمیر کی اصل روح کو کچلنا چاہتی ہے یہاں پر بھی اپنے آر ایس ایس اور شیوسینا کے مکروہ ایجنڈے پر عمل کرنے کے درپے ہے اسے کشمیری عوام ناکام بنا دیں گے۔ چاہے اس کے لیے انہیں کتنی قربانیاں کیوں نہ دینا پڑیں۔

شیخ عبداللہ ہو یا مفتی سعید، نریندر مودی ہو یا راہول گاندھی ان کا جو مکروہ اتحاد کبھی بھی کشمیر میں کشمیریوں کی قدرتی اور حقیقی عددی تناسب کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ 1947 کی تقسیم میں پہلے ہی جموں کے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرکے جموں کے خطے کو ہندو اکثریتی خطہ بنایا جا چکا ہے۔ اب ریاست کشمیر میں مسلم آبادی کی اکثریت ختم کرنے کی کوئی بھی کوشش کشمیری اپنی جانوں پر کھیل کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ کشمیر بھارت کی مفتوحہ یا باجگزار جاگیر نہیں یہ ایک عالمی سطح پہ تسلیم شدہ متنازعہ ریاست ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا طے شدہ اور تسلیم شدہ ہے۔ بھارت اپنی ہٹ دھرمی اور طاقت کے بل بوتے پر لاکھوں کشمیریوں کو مار کر بھی اس مسئلے کو سرد نہیں کر سکا تو یہ چند زرخیز بھارتی ایجنڈا بھارت کے ساتھ مل کر کیا کر لیں گے۔ ان کشمیری زرخرید غلاموں اور بھارتی حکمرانوں کے گٹھ جوڑ سے غلامی کی یہ سیاہ رات کچھ تو طویل ہو سکتی ہے مگر یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی کیونکہ ہر شب کے بعد سحر ہوتی ہے آج تک کوئی ایسی شب نہیں آئی جس کی سحر نہیں۔ اب کشمیری عوام کے سامنے نیشنل کانفرنس سے لے کر پی ڈی پی تک کے ضمیر فروش وطن فروش پارٹیوں کے ان کے رہنمائوں کے چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ اور حریت کانفرنس کے رہنمائوں کو بھی اس نازک موڑ پر اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنانے کا شوق ترک کرکے متحد ہو کر آزادی پسندوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینا ہو گا۔ کشمیر میں تحریک آزادی ایک بار پھر تمام تر بھارتی ظالمانہ ہتھکنڈوں کے باوجود پورے عزم واستقلال کے ساتھ سینہ تانے کھڑی ہے۔ لاکھوں کشمیری بھارت کیخلاف سینہ سپر ہیں۔

اگراس بار بھی کشمیر کی حریت کانفرنس کی تمام قائدین نے تحریک کی بجائے اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ بجانے کی کوشش کی تو پھر اس کا انجام ان کے ساتھ ساتھ پوری کشمیری قوم اور کشمیر کے لئے مستقل فنا کی صورت میں ہی سامنے آئے گا۔ یہی بھارت بھی چاہتا ہے۔

 
You are here: Home Editorial کشمیر فروشی کی ایک اور واردات