Services

Untitled Document
Untitled Document

بِلامقصد تقریروں کی عادت

E-mail Print PDF

بِلامقصد تقریروں کی عادت

ڈاکٹر تنویر حسین

 

انسان کا ذہن بھی عجیب ہے۔ انسان جس خاندان میں پیدا ہوتا ہے، جس علاقے یا محلے میں مقیم ہوتا ہے، جس ادارے میں تعلیم حاصل کرتا ہے، جس ادارے میں ملازمت کرتا ہے یا جس جگہ وہ کاروبار کرتا ہے، وہاں کے لوگوں سے اس کا تعلق واسطہ، میل جول اور ربط ضبط ضرور رہتا ہے۔ انہی لوگوں میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جنہیں مل کر ایک روحانی مسرت یا روحانی تسکین ہوتی ہے۔ انہی لوگوں میں سے ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے بندے کو ایک عقیدت سی ہو جاتی ہے۔ کچھ ایسی شخصیات بھی ہوتی ہیں، جن کے بغیر دو پل رہنا مشکل ہو جاتا ہے اور بعض لوگوں سے مل کر ایک نشہ سا بھی طاری ہو جاتا ہے۔ انہی لوگوں میں سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جن کا نام سنتے ہی بندہ ناک بھوں چڑھانے لگتا ہے۔ بعض لوگوں کو دیکھ کر بندہ کتراتا ہے۔ بعض لوگوں کو دیکھ کر ہی بندے کو الجھن ہونے لگتی ہے۔ ہر شخص دوسروں کے بارے میں کوئی نہ کوئی رائے ضرور رکھتا ہے۔ کوئی کسی کی نظر میں ’’بور‘‘ ہے، کوئی وقت ضائع کرتا ہے، کسی کی لایعنی گفتگو دوسروں کو بیزار کرتی ہے۔ کسی کی خودپسندی اور اپنے منہ میاں مٹھو بننا دوسروں کیلئے باعثِ اکتاہٹ ہوتا ہے۔

میں ایک شخص ’’اے‘‘ کو جانتا ہوں، جو ایک شخص ’’بی‘‘ سے نفرت کرتا تھا۔ نفرت کرنے سے مراد یہ کہ اس شخص کی عادات کو ناپسند کرتا تھا۔ بی بدلحاظ، منہ پھٹ، طوطا چشم اور بات بات پر طعن و تشنیع کرنے والا۔ ’’بی‘‘ جب کبھی ’’اے‘‘ کے قریب آتا تو ’’اے‘‘ اپنی نشست سے اٹھ جاتا اور دور کسی اور نشست پر بیٹھ جاتا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ شخص ’’اے‘‘ ’’بی‘‘ کو دیکھتے ہی کہتا۔ وہ آ رہا ہے، اس نے آتے ہی فضولیات کا صندوق کھول دینا ہے۔ ایک سے ایک بڑھ کے فضول بات کریگا۔ اے زیرِ لب بی کی مذمت کرتے ہوئے اٹھ جاتا۔ ایک خاندان، علاقے، محلے اور ادارے کے سب افراد نہ صرف ایک دوسرے کو جانتے ہوتے ہیں بلکہ انکی عادات و خصائل سے بھی کماحقہ واقف ہوتے ہیں۔ انہی عادات و خصائل کے حوالے سے ہر شخص کا دوسرے کے ذہن میں ایک امیج ہوتا ہے۔ اس امیج یا رائے کا اظہار ضروری نہیں کہ کسی شخص کے منہ پر کیا جائے۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ خلقِ خدا ہمیں غائبانہ کیا کہتی ہے تو شاید ہم اپنے رویے اور عادات پر نظرِثانی کرنے کی کوشش کریں۔

یہ امیج اور رائے ہم انسان ایک دوسرے کے بارے میں رکھتے ہیں۔ ایک انسان کے پاس اتنا اختیار ہے کہ وہ اپنی باتوں، اپنے ذہن اور اپنے دست و بازو سے دوسرے انسان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انسانوں کے علاوہ ہم ان پرندوں، جانوروں اور حشرات کے بارے میں بھی ایک رائے رکھتے ہیں، جو ہمیں اڑتے، چلتے پھرتے اور رینگتے نظر آتے ہیں۔ چڑیا کے بارے میں ہم سب کے دل میں ایک نرم گوشہ موجود ہے لیکن کوے کے بارے میں ہماری رائے اچھی نہیں۔ یہ کبھی کسی نے نہیں کہا کہ مجھے کوئوں سے عشق ہے۔ یہ گانا بھی کبھی نہیں سنا۔ جیا بے قرار ہے۔ کووں کی بہار ہے۔ بعض پرندوں کی الصبح زمزمہ پردازی کرنا کانوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے۔ انکی آوازوں پر سبحان تیری قدرت کے الفاظ کا گمان ہوتا ہے۔ کوے بلاوجہ، بلاضرورت اور بلاتکان کائیں کائیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ ایک کریہہ آواز ہم گدھے کی بھی سنتے رہتے ہیں۔ جب کوئی گدھا کسی انسان کے قریب اپنی آواز کا جادو جگانے لگتا ہے تو وہ انسان اپنے سارے کام ترک کرکے دعا کرنے لگتا ہے کہ یہ آواز بند ہو جائے۔

ہمارے بعض سیاسی لیڈروں کا بھی یہی حال ہے کہ انہیں بلاوجہ، بلامقصد اور بلاضرورت تقریریں کرنے کی عادت ہے۔ ان تقریروں میں عقل و دانش اور خیر و سلامتی کی تو کوئی بات نہیں ہوتی۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے نشئی نشہ کرنے کے بعد زور زور سے چیخ رہے ہوں اور ایسے جانوروں کی بولیوں کے حوالے دے رہے ہوں، جنہیں سن کر انسان کی طبیعت اوازار ہو جاتی ہے۔ تقریر جو منہ میں آئے کہنے کا نام نہیں ہے۔ ہم نے اپنے ملک کے منجن اور سُرمہ فروشوں کی تقریریں بلکہ سپیروں اور جادوگروں کی تقریریں بھی سنی ہیں۔ یہ لوگ نہایت مہذب اور کارآمد باتوں سے لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ اگر کسی سیاستدان سے زیادہ کوئی سپیرا مہذب اور کارآمد گفتگو کرنے کا ہنر جانتا ہو تو پھر اس سیاستدان کو چاہئے کہ وہ اس سپیرے کے آگے زانوئے تلمذ تہ کرے۔ ہمارے سیاستدان اپنی پارٹیاں خود ہی ختم کرتے جا رہے ہیں۔ یہ اتنی غلطیاں کر رہے ہیں کہ نئی پارٹیوں کیلئے راستہ ہموار اور صاف ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک مثل مشہور ہے کہ اگر چہرہ اچھا نہ ہو، بات تو اچھی کرنی چاہیے۔ اگر اچھی بات کرنے کی اہلیت نہ ہو تو چپ رہنا چاہیے۔ چپ رہنے پر تو کوئی خرچ نہیں آتا۔ چپ رہنے سے کم از کم عیب تو چھپے رہتے ہیں۔

 
You are here: Home Editorial بِلامقصد تقریروں کی عادت