Services

Untitled Document
Untitled Document

الطاف بھائی اپنے بزرگوں کی ارواح سے تو پوچھ لیجئے

E-mail Print PDF

الطاف بھائی اپنے بزرگوں کی ارواح سے تو پوچھ لیجئے

ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی

سیاسی منظر نامے کی جزئیات پر نظر رکھنے والے ہمارے ایک دوست کا خیال ہے کہ متحدہ کے الطاف بھائی اپنی شخصی انا اور ڈکٹیٹر شپ کے اس حتمی مرحلے پر آن پہنچے ہیں جہاں فہم و فراست اور علم و تدبر کا انسان کے قول و فعل سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ شاید انکے وہم و گمان سے یہ حقیقت بھی منہا ہو گئی ہے کہ وہ لاکھوں افراد پر مشتمل ایک حد درجہ سنجیدہ کمیونٹی کے رہبر و رہنما ہیں۔ ہمارے اس دوست کا کہنا ہے کراچی کی اردو بولنے والی کمیونٹی اس حد تک تعلیم یافتہ اور مہذب ہے کہ وہ اپنے فہم و ادراک سے اڑتی چڑیا کے پر تک گن لیتی ہے‘ پھر اسے الطاف بھائی جیسے عامیانہ زبان بولنے اور حقائق سے ہٹ کر بات کرنیوالے لیڈر کی ضرورت آخر کب تک ہو گی؟ انکی رائے میں الطاف حسین بھائی ایم کیو ایم کی سیاست میں ’’مائنس ون‘‘ فارمولے کی جانب ازخود اضطراری طورپر لپک رہے ہیں گویا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں‘ انہیں ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہئے۔ برا وقت تو ہر لیڈر اور ہر جماعت پر آ ہی جاتا ہے‘ عمران خان پر بھی آیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ درخت کی مضبوط اور ہری بھری شاخ پر بیٹھا ہوا شخص اسے ہی کاٹنا شروع کر دے۔ اس ضمن میں ہمارے ایک اور یاربیلی جو سیاسی اذہان کو نفسیاتی سطح پر رکھ کر دیکھنے کے قائل ہیں کی رائے میں الطاف بھائی کی شخصیت اور ذہن جستہ جستہ ابنار میلٹی کا شکار ہو کر اس مضحکہ خیز مرحلے تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ بے سروپا باتیں کر کے گویا ’’انگریزوں کی توپوں میں کیڑے پڑیں گے‘‘ کا راگ الاپ رہے ہیں ۔اور یہ سب کیا دھرا کراچی کے اس کامیاب آپریشن کا ہے‘ جس کے نتیجے میں روشنیوں کا شہر بھتہ خوری‘ قتل و غارت گری اور سٹریٹ کرائمز سے بتدریج پاک و صاف ہوتا نظر آ رہا ہے۔ الطاف بھائی کا اپنے اس ’’برے وقت‘‘ میں اقوام متحدہ نیٹو اور بھارت کو پکارنا بھی شاید آغا صدیق حسن ضیاء کے اس شعر کا مصداق ہے کہ:

کون سے رنگ میں امید کا منظر کھینچوں

ڈوبنے والے نے ہر موج کو ساحل سمجھا

الطاف حسین کے غیر سنجیدہ فرمودات اور منطق و دلیل سے عاری حالیہ فرمودات کے بارے میری رائے دوستوں سے ذرا مختلف ہے۔ الطاف بھائی کا یہ کہنا کہ بھارت میں ذرا بھی غیرت ہوتی تو کراچی میں مہاجروں کا خون نہ بہتا میرے خیال میں پوری ایم کیو ایم کمیونٹی کی آواز نہیں ہو سکتی۔ اسے مجذوب کی بڑ ہی کہنا چاہئے‘ کیونکہ کراچی آپریشن کی زد میں آنیوالے افراد صرف اور صرف جرائم پیشہ ہیں ان کا ایم کیو ایم یا کسی اور سیاسی جماعت سے تعلق جوڑنا بجائے خود چور مچائے شور والا معاملہ ہو سکتا ہے۔ میرے خیال میں الطاف بھائی ایک سیاسی ’’معصوم‘‘ ہیں انہیں شاید یہ تک معلوم نہیں کہ گریٹر بلوچستان‘ گریٹر پختونخوا اور گریٹر پنجاب کی بات کر کے بھی وہ کسی طور پاکستان کی عملی سیاست میں حصہ لینے کے قابل رہ جاتے ہیں یا نہیں؟ ان کی سیاسی شخصیت اور مبہم ذہن کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ دنیا بھر بالخصوص بھارت کی عملی سیاست کے حقیقی طور اطوار سے بھی یکسر نابلد ہیں۔ انہیں شاید یہ تک معلوم نہیں کہ ممبئی حملوں کی پاداش میں بے گناہ پھانسی لگنے والے بھارتی مسلمان کے آخری الفاظ کیا تھے؟ اس نے کہا محمد علی جناحؒ نے درست کہا تھا بھارت مسلمانوں کیلئے جائے عافیت نہیں ہو گی‘ مجھے اپنے ہندوستانی ہونے پر ندامت ہے‘ میں ہندوستان کے عمومی مسلمانوں کو بزدل اور کشمیری مسلمانوں کو بہادر سمجھتا ہوں، جو اپنے حقوق کے لئے بھارت سے نبردآزما ہیں۔ کیا الطاف بھائی کو یہ معلوم نہیں کہ گریٹر بلوچستان‘ گریٹر پختونخوا اور گریٹر پنجاب ’’را‘‘ کے مذموم ایجنڈے ہیں؟ میرا دل چاہتا ہے زمینی حقائق کے تناظر میں الطاف حسین کو یہ بات بھی سمجھا دوں کہ وہ گریٹر بلوچستان‘ گریٹر پختونخوا اور گریٹر پنجاب پاک و بھارت سرزمین پر (میرے منہ میں خاک) ایٹمی جنگ کے بعد بچنے والی راکھ پر ہی بھارت کے ساتھ مل کر بنا سکیں گے۔ الطاف بھائی سن لیجئے بھارت کے لاشعور میں بھی یہ بات پتھر پر لکیر کی طرح موجود ہے کہ پاکستان نے ایٹمی ہتھیار شب برات پر آتش بازی کیلئے نہیں بلکہ اپنے وجود کے دائمی تحفظ کی خاطر بنائے ہیں۔ رہ گیا یہ معاملہ کہ بھارت بزدل ہے جو کراچی میں مہاجروں پر زیادتی نہیں رکوا سکا۔ الطاف بھائی ذرا یہ بات اپنے بزرگوں کے قبرستان کی منڈیر پر بیٹھ کر کیجئے‘ ہر قبر سے آواز آئیگی ہم نے اپنی نسلوں کو قائداعظمؒ کی قیادت میں پاکستانی بنایا تھا‘ تم یہ کیا کر رہے ہو؟ ہماری روحوں کے تقدس سے مت کھیلو‘ ہمیں جنت میں آسودہ رہنے دو اور اپنا قبلہ درست کرو۔ الطاف بھائی آپکے جنت نشین بزرگ تو ہم سے بڑے پاکستانی تھے‘ وہ مسلم اقلیتی علاقوں سے اپنے بچوں کی ننھی ننھی انگلیاں پکڑ کر پاکستان کی سرزمین اس لئے تو قدم رنجہ نہیں ہوئے تھے کہ انکی آئندہ نسلیں اپنے خانگی مسائل حل کرنے کیلئے بھارت کو پکارتی پھریں۔ خدا گواہ ہے پاکستان بنانے کیلئے دس لاکھ شہداء کی قربانیاں تو انہوں نے ہی دی تھیں۔ پاکستان کے حقیقی وارث تو انہیں کی اولادیں تھیں‘ آپ تھے‘ آپکی جماعت کے لوگ تھے‘ گھر کے اندرونی اختلافات کی پاداش میں مکان کو آگ لگا دینے کے عزائم رکھنا کون سی دانشمندی ہے؟ الطاف بھائی مسلم اقلیتی علاقوں سے پاکستان آنیوالے مہاجرین تو ہمارے لئے مہاجرین مدینہ تھے۔ ہجرت مدینہ کے بعد چشم فلک نے دوسری بڑی اسلامی مواخات بھی تو اسی پاک خطے میں دیکھی تھی۔ قائداعظمؒ اور ان کے حقیقی وارثوں کے دور میں بھی یہ بھائی چارہ قائم رہا۔ چودھری محمد علی کے بعد کے ادوار میں آمریت کی وجہ سے بہت سی ناانصافیاں ہوئیں‘ زیادتیاں بھی سرزد ہوئیں‘ لیکن الطاف بھائی یہ ملک آپکے بزرگوں کا بھی تو ہے‘ خون تو سارا اس گارے مٹی کو آپ کے بزرگوں نے ہی دیا تھا‘ اس چمن کو سنوار لیجئے‘ یہ آخری موقع ہے‘ فوج اور سیکورٹی اداروں کو دہشتگردوں‘ تخریب کاروں اور کراچی کا حسن اجاڑنے والوں سے نمٹ لینے دیجئے‘ جرائم پیشہ لوگ آپ کے بھی کسی کام کے نہیں‘ انکے پیچھے اپنی جماعت اور ذات کو داؤ پر نہ لگائیے‘ آپ کے بزرگوں نے آپ کو پاکستانی بنایا تھا‘ انکی پاک روحوں کی لاج رکھ لیجئے‘ الطاف بھائی واپس آ جائیے‘ اسی جگہ جہاں آپ اردو بولنے والے پاکستانیوں کی بے لاگ نمائندگی کیا کرتے تھے‘ واپس آ جائیے‘ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔

 
You are here: Home Editorial الطاف بھائی اپنے بزرگوں کی ارواح سے تو پوچھ لیجئے